ابنا: وزراء کی سطح پر منعقد ہونے والے اس اجلاس میں مختلف مسائل منجملہ اس فورم کے اداری و مالی مسائل، سنہ دو ہزار چودہ کے بجٹ کے تعّین، سنہ دو ہزار چودہ میں سکریٹریٹ کے ایجنڈے اور گیس کی منڈی کے بارے میں مختلف رپورٹوں کا جائزہ لیا جائیگا۔ اسی طرح اس فورم کے سکریٹری جنرل کا انتخاب بھی، ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جو اس اجلاس میں خاصطور سے توجہ طلب رہے گا۔
اس وقت اس فورم کی قیادت، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر پٹرولیم بیژن نامدار زنگنہ کررہے ہیں۔ گیس برآمد کرنے والے ملکوں کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سترہویں اجلاس میں، جو گذشتہ سال قطر میں اس فورم کے ہیڈکوارٹر ميں منعقد ہوا تھا، تہران میں منعقد ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا تیار کیا گیا تھا۔اس اجلاس میں ایران، روس اور لیبیاء کی جانب سے اس فورم کے سکریٹری جنرل کی حیثیت سے نامزد امیدوار بھی پیش کئے گئے تھے جس کا انتخاب کل تہران اجلاس میں عمل میں آئے گا۔اس عہدے کیلئے ایران کی جانب سے سید محمد حسین عادلی کا نام پیش کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ تیرہ ممالک منجلہ ایران، الجزائر، گینی اسٹوئی ، لیبیاء، نائیجیریا، قطر، روس، ٹرینیڈاڈ وٹوباگو، ونیزوئیلا، متحدہ عرب امارات اور عمان، جی ای سی ایف کے رکن ممالک جبکہ چار دیگر ممالک منجملہ ہالینڈ، قزاقستان، ناروے اور عراق، مبّصر ملکوں کی حیثیت سے شامل ہیں۔
.......
/169